5 اشعار

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں

Is dasht-e be panah ki hadd par bhi khush nahin

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیںمیں اپنی خواہشوں سے بچھڑ کر بھی خوش نہیں

اک سر خوشی محیط ہے چاروں طرف مگربستی میں کوئی شخص کوئی گھر بھی خوش نہیں

کتنے ہیں لوگ خود کو جو کھو کر اداس ہیںاور کتنے اپنے آپ کو پا کر بھی خوش نہیں

یہ کیفیت غلام نہیں قید و بند کیاندر جو اپنے خوش نہیں باہر بھی خوش نہیں

ساحل کی بھیگی ریت پہ چلتا برہنہ پامیں ہوں اداس اور سمندر بھی خوش نہیں

— زیشان ساحل