7 اشعار

محبت کا سبق آساں تھا لیکن بھلا بیٹھا

Mohabbat ka sabaq aasan tha lekin bhula baitha

محبت کا سبق آساں تھا لیکن بھلا بیٹھامیں اک شعلے کے جس سے دور رہتا تھا

بہت نزدیک آ بیٹھابدن تو خیر جلنا تھا مگر میں

روح تک اپنی جلا بیٹھاستارے توڑ کر لانا بہت آساں تھا

لیکن میں ان کو بہتے پانی میں گرا بیٹھاپرندے شام ہونے پر چمن میں

آشیاں کے پاس آ پہنچے تھےمیں ان کو اڑا بیٹھا

دریچے سے ہوا آنے لگی تھیخواب جاگ اٹھے تھے

میں رستے میں آ بیٹھا

— زیشان ساحل