13 اشعار

تندلکر اک روز ستارے

Tendulkar ek roz sitare

تندلکر اک روز ستارےاور آکاش پہ پھیلے بادل

کرکٹ کے میدان میں آ کےآنکھ مچولی کھلیں گے

تم ان بے چاروں کےکھیل میں

کبھی کھڑی دیوار نہ کرناپل دو پل

یا جیون بھر کوان کا ساتھی

بن جانے سےپیارے تم انکار نہ کرنا

اگر شعیب اختر کیگیند پہ

جلدی آؤٹ ہو جاؤ تونفرت کا اظہار نہ کرنا

جیت یا ہار کےبوجھل پن میں

آنسو لے کر اپنے من میںجب بھی تم

تنہا بیٹھے ہوپاس پڑوس کی ساری چڑیاں

گیت سنانے آئیں گیاپنے پروں پر تم کو

امبر تک لے جانے آئیں گی

— زیشان ساحل