6 اشعار

تم نے کتاب کھول کے دیکھی نہیں ابھی

Tum ne kitaab khol ke dekhi nahin abhi

تم نے کتاب کھول کے دیکھی نہیں ابھیاس میں تمہارے بارے میں اک اور نظم ہے

اس نظم میں سفید گلابوں کا ذکر ہےآنکھوں میں قید ریشمی خوابوں کا ذکر ہے

اے دل ہر ایک بار یہ خوابوں کی بات کیوںتکیے کے پاس بند کتابوں کی بات کیوں

ہر رات آسماں پہ ستاروں سے بات کردریا کو تو نہ چھیڑ کناروں سے بات کر

کرتا ہے کون روز ستاروں سے گفتگوہوگی نہیں خزاں میں بہاروں سے گفتگو

کچھ دیر اس کی یاد میں خاموش رہ کے دیکھجس نے کتاب کھول کے دیکھی نہیں ابھی

— زیشان ساحل