14 اشعار

جواہر لال یونیورسٹی کے طلبا کے لیے

Jawahar Lal University ke tulaba ke liye

ہمیں ایک دن ختم کرنا پڑے گاہمارے دلوں میں جو کچھ فاصلہ ہے

ہمیں دھوپ میں خوب چلنا پڑے گامحبت کا بس ایک ہی راستہ ہے

ہم انسان ہیں اور انساں رہیں گےجو حیوان ہیں ایک دن تنگ آ کر

چلے جائیں گے اپنے جنگل میں واپسجہاں وہ رہیں گے وہیں لڑ مریں گے

جو باقی بچیں گے وہ شہروں میں آ کرگھروں کو جلانے کی کوشش کریں گے

جوانوں کو کھانے کی کوشش کریں گےوہ کالج سے جاتی ہوئی لڑکیوں کو

اندھیرے میں لانے کی کوشش کریں گےہم انسان ہیں اور انساں کی عزت

ہمیشہ بچانے کی کوشش کریں گےہمیں کوئی اشلوک آتا نہیں ہے

سوامی کا ترشول بھاتا نہیں ہےہماری کویتا، ہماری کتھا ہے

ہماری کتابیں ہمارا جتھا ہےاگر کوئی دیمک ہمارا اثاثہ

مٹانے کی آشا لیے آ رہی ہےوہ یہ جان لے کہ ہمارے دلوں میں

محبت کی لو جگمگانے لگی ہےہمیں اپنے سینوں کی سیڑھی بنا کے

کسی رات امبر پہ جانا پڑے گادیے کی جگہ پھول رکھنے پڑیں گے

پرندوں کے ہم راہ گانا پڑے گا

— زیشان ساحل