20 اشعار

گل چاندنی

Gul Chandni

گل چاندنی

«گل چاندنی» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

کل شام یاد آیا مجھے!ایسے کہ جیسے خواب تھا

کونے میں آنگن کے مرےگل چاندنی کا پیڑا تھا

میں ساری ساری دوپہرسائے میں اس کے کھیلتی

پھولوں کو چھو کر بھاگتیشاخوں سے مل کر جھولتی

اس کے تنے میں بیسیوں!لوہے کہ کیلیں تھیں جڑی

کیلوں کو مت چھونا کبھیتاکید تھی مجھ کو یہی!

یہ راز مجھ پہ فاش تھااس پیڑ پر آسیب تھا!

اک مرد کامل نے مگرایسا عمل اس پر کیا

باہر وہ آ سکتا نہیں!!کیلوں میں اس کو جڑ دیا

ہاں کوئی کیلوں کو اگرکھینچے گا اوپر کی طرف!

آسیب بھی چھٹ جائے گاپھولوں کو بھی کھا جائے گا

پتوں پہ بھی منڈلائے گاپھر دیکھتے ہی دیکھتے

یہ گھر کا گھر جل جائے گااس صحن جسم و جاں میں بھی

گل چاندنی کا پیڑ ہے!سب پھول میرے ساتھ ہیں

پتے مرے ہم راز ہیںاس پیڑ کا سایہ مجھے!

اب بھی بہت محبوب ہےاس کے تنے میں آج تک

آسیب وہ محصور ہےیہ سوچتی ہوں آج بھی!

کیلوں کو گر چھیڑا کبھیآسیب بھی چھٹ جائے گا

پتوں سے کیا لینا اسےپھولوں سے کیا مطلب اسے

بس گھر مرا جل جائے گاکیا گھر مرا جل جائے گا؟

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں