18 اشعار

شام کا پہلا تارا

Shaam ka pehla taara

شام کا پہلا تارا

«شام کا پہلا تارا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

جب جھونکا تیز ہواؤں کاکچھ سوچ کے دھیمے گزرا تھا

جب تپتے سورج کا چہرہاودی چادر میں لپٹا تھا

جب سوکھی مٹی کا سینہسانسوں کی نمی سے جاگا تھا

ہم لوگ اس شام اکٹھے تھےجس نے ہمیں ہنس کر دیکھا تھا

وہ پہلا دوست ہمارا تھاوہ شام کا پہلا تارا تھا

جو شاید ہم دونوں کے لئےکچھ وقت سے پہلے نکلا تھا

جب جھلمل کرتا وہ کمرہسگرٹ کے دھوئیں سے دھندلا تھا

جب نشۂ مے کی تلخی سے!ہر شخص کا لہجہ میٹھا تھا

ہر فکر کی اپنی منزل تھیہر سوچ کا اپنا رستہ تھا

ہم لوگ اس رات اکٹھے تھےاس رات بھی کیا ہنگامہ تھا

میں محو مدارات عالماور تم کو ذوق تماشا تھا

موضوع سخن جس پر ہم نےرائے دی تھی اور سوچا تھا

دنیا کی بدلتی حالت تھیکچھ آب و ہوا کا قصہ تھا

جب سب لوگوں کی آنکھوں میںکمرے کا دھواں بھر آیا تھا

تب میں نے کھڑکی کھولی تھی!تم نے پردہ سرکایا تھا

جس نے ہمیں دکھ سے دیکھا تھاوہ پہلا دوست ہمارا تھا

وہ شام کا پہلا تارا تھاجو شاید ہم دونوں کے لئے

اس رات سحر تک جاگا تھاوہ شام کا پہلا تارا تھا

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں