6 اشعار

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز کا تھا

Safar khud raftagi ka bhi ajab andaaz ka tha

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز کا تھا

«سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز کا تھا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز کا تھاکہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا

زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدیاندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا

چلے چلتے تھے رہرو ایک آواز اخی پرجنوں تھا یا فسوں تھا کچھ تو تھا جو ہو رہا تھا

میں اس دن تیری آمد کا نظارہ سوچتی تھیوہ دن جب تیرے جانے کے لیے رکنا پڑا تھا

اسی حسن تعلق پر ورق لکھتے گئے لاکھکرن سے روئے گل تک ایک پل کا رابطہ تھا

بہت دن بعد زہراؔ تو نے کچھ غزلیں تو لکھیںنہ لکھنے کا کسی سے کیا کوئی وعدہ کیا تھا

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں