27 اشعار

جرمِ وعدہ

Jurm-e-Wa'da

جرمِ وعدہ

«جرمِ وعدہ» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

مِرے بچّے ہزاروں بار میں نے تم کو اک قصہ سنایا ہےکبھی لوری کے آنچل میں

کبھی باتوں کے جھولے میں تمھیں بہلا کے لپٹا کے سُلایا ہےتمہارے گرم رخساروں کو اپنے سرد ہونٹوں سے چھوا ہے

تم سے اک وعدہ کیا ہےمِرے بچّے

کہانی میں تھکی ہاری جو لڑکی تھیوہ شہزادی نہیں میں تھی

وہ جادو کا محل جو اک پل میں جل کے صحرا ہو گیا تھا وہ مِرا گھر تھاجہاں آنکھوں کی سوئیاں رہ گئی تھیں

خواب میرے تھےوہ جن میں گھِر گئی تھی

غیر کیا سب میرے اپنے تھےجہاں اسکا فسانہ تھا

وہیں میری حقیقت تھیجہاں وہ مڑ کے پتھر ہو گئی

میری محبت تھیہزاروں آگ کے میدان تھے

بارش لہو کی تھییہ سب کچھ مجھ پہ گزری تھی

مِرے بچّے کہانی میںتھکی ہاری جو لڑکی تھی

وہ شہزادی نہیں میں تھیجہاں قصے کا آخر تھا

مِرے بچّے !وہاں تم تھے

خوشی کی زندگانی کی علامتتمناؤں کا اک خوابِ مسلسل

رفاقت کی صداقت کی ضمانتجہاں پر صرف خوش انجام تھا ، ہر ایک افسانہ

مرے بچّے ! وہاں تم تھے ، وہاں تم تھےمری آنکھیں کسی پیمان کے زخموں سے بوجھل تھیں

تمہارا عکس ان زخموں کا مرہم تھاادھورے عہد کے رعشے سے میرے ہاتھ لرزاں تھے

تمہارا ساتھ اک تسکینِ پیہم تھامجھے اقرار تھا

میں خاک ہوںتم حسن و زیبائش

مجھے احساس تھامیں خوف ہوں

تم امن و آسائشمیں ماضی ہوں

مگر تم صورتِ فردا فروزاں ہومیں مشکل ہوں

مگر تم صورتِ امید آساں ہومِرے بچّے !

مرا احساس اور اقرار دونوں آج مجرم ہیںمیں اپنا سر جھکاۓ اپنی فردِ جرم سنتی ہوں

بجاۓ گل رداۓِ آرزو سے خار چنتی ہوںتمھیں معلوم ہے

الزام کیا ہےوہی وعدہ جو انسانوں کی تقدیروں میں لکھا ہے

تحفظ کا ، تمہاری آبرو کا ، سر بلندی کا

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں