5 اشعار

ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو

Har aan sitam dhaaye hai kya jaaniye kya ho

ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو

«ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہودل غم سے بھی گھبرائے ہے کیا جانیے کیا ہو

کیا غیر کو ڈھونڈیں کہ ترے کوچے میں ہر ایکاپنا سا نظر آئے ہے کیا جانیے کیا ہو

آنکھوں کو نہیں راس کسی یاد کا آنسوتھم تھم کے ڈھلک جائے ہے کیا جانیے کیا ہو

اس بحر میں ہم جیسوں پہ ہر موجۂ‌ پر خوںآ آ کے گزر جائے ہے کیا جانیے کیا ہو

دنیا سے نرالے ہیں تری بزم کے دستورجو آئے سو پچھتائے ہے کیا جانیے کیا ہو

— زہرا نگاہ