4 اشعار

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

Jo dil ne kahi lab pe kahaan aai hai dekho

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

«جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھواب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو

پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھوغنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو

اب ذوق طلب وجہ جنوں ٹھیر گیا ہےاور عرض وفا باعث رسوائی ہے دیکھو

غم اپنے ہی اشکوں کا خریدار ہوا ہےدل اپنی ہی حالت کا تماشائی ہے دیکھو

— زہرا نگاہ