متاع الفاظ
کلام: زہرا نگاہ
یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنوہم اسی چھوٹی سی دنیا کے کسی رستے پر
اتفاقا کبھی بھولے سے کہیں مل جائیںکیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنوہم اسی چھوٹی سی دنیا کے کسی رستے پر
اتفاقا کبھی بھولے سے کہیں مل جائیںکیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح
مِرے بچّے ہزاروں بار میں نے تم کو اک قصہ سنایا ہےکبھی لوری کے آنچل میں
کبھی باتوں کے جھولے میں تمھیں بہلا کے لپٹا کے سُلایا ہےتمہارے گرم رخساروں کو اپنے سرد ہونٹوں سے چھوا ہے