4 اشعار

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں

Ronaqein ab bhi kawaadon mein chhupi lagti hain

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں

«رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیںمحفلیں اب بھی اسی طرح سجی لگتی ہیں

روشنی اب بھی درازوں سے امڈ آتی ہےکھڑکیاں اب بھی صداؤں سے کھلی لگتی ہیں

ساعتیں جو تری قربت میں گراں گزری تھیںدور سے دیکھوں تو اب وہ بھی بھلی لگتی ہیں

اب بھی کچھ لوگ سناتے ہیں سنائے ہوئے شعرباتیں اب بھی تری ذہنوں میں بسی لگتی ہیں

— زہرا نگاہ