6 اشعار

یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو

Yeh hukm hai ke andhere ko roshni samjho

یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو

«یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھوملے نشیب تو کوہ و دمن کی بات کرو

نہیں ہے مے نہ سہی چشم التفات تو ہےنئی ہے بزم طریق کہن کی بات کرو

فریب خوردۂ منزل ہیں ہم کو کیا معلومبہ طرز راہبری راہزن کی بات کرو

خزاں نے آ کے کہا میرے غم سے کیا حاصلجہاں بہار لٹی اس چمن کی بات کرو

قدم قدم پہ فروزاں ہیں آنسوؤں کے چراغانہیں بجھاؤ تو صبح وطن کی بات کرو

بہار آئے تو چپ چاپ ہی گزر جائےنہ رنگ و بو کی نہ سرو و سمن کی بات کرو

— زہرا نگاہ