5 اشعار

ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو

Tera khayal farozaan hai dekhiye kya ho

ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو

«ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہوخموش گردش دوراں ہے دیکھیے کیا ہو

نہ جانے کتنے ستارے یہ کہتے ڈوب گئےسحر کا رنگ پریشاں ہے دیکھیے کیا ہو

کلی اداس چمن سوگوار گل خاموشیہ انتظار بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو

عجیب بات ہے ان تیرگی کی راہوں میںنفس نفس میں چراغاں ہے دیکھیے کیا ہو

بھڑک رہا ہے ابھی تک چراغ آخر شباسے بھی صبح کا ارماں ہے دیکھیے کیا ہو

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں