4 اشعار

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا

Is rahguzar mein apna qadam bhi juda mila

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا

«اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملااتنی صعوبتوں کا ہمیں یہ صلہ ملا

اک وسعت خیال کہ لفظوں میں گھر گئیلہجہ کبھی جو ہم کو کرم آشنا ملا

تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیںاے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا

ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہمخود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں