نظم 12 اشعار

کسک

Kasak

ترے دل میں غلطاں ہو گر وہ انوکھی کسککہ جس کے سبب تجھ کو ہر شے پکارے، کہے:

مجھے دیکھ میری طرف آ مجھے پیار کرتو لپکے تو ہر چیز تجھ سے کھنچے دور دور

ترے دل میں ہو موج در موج اک سیل دردمگر تو نہ سمجھے کشش کیا ہے دوری ہے کیوں

فقط وہ انوکھی خلش دل میں غلطاں رہےہواؤں کے ہاتھوں میں بیتاب موجوں کے دف

ہوا تیشہ زن سبز سیال بلور پرہوا سے دھڑکتے سمندر کے ساحل پہ کف

یہ آمیزش حسن و خوف آرزو و فرارترے دل میں غلطاں رہے وہ انوکھی کسک

تفاوت کبھی نت بدلتی امنگوں میں دیکھتفاوت کبھی لہکے سبزے کے رنگوں میں دیکھ

کہیں تازہ کونپل میں سبزے کی ہلکی جھلککہیں ٹہنی ٹہنی بدلتا ہے پتوں کا عکس

کبھی دھوپ میں نکھرا نکھرا ہے رنگوں کا روپکبھی چھاؤں میں شام کے سائے میں ابر میں

سبھی رنگ کچھ اور بھی گہرے ہوتے ہوئےتفاوت سے جن کی تری آنکھ حیراں رہے

یہ حیرت کشش ہے کشش میں انوکھی کسکتری فہم کی دسترس سے مگر دور دور

یہ میٹھی رسیلی انوکھی کسک زیست ہے

— ضیاء جالندھری