نظم 12 اشعار

سنبھالا

Sambhaala

تنہائی شکستہ پر سمیٹےآکاش کی وسعتوں پہ حیراں

حسرت سے خلا میں تک رہی ہےیادوں کے سلگتے ابر پارے

افسردہ دھوئیں میں ڈھل چکے ہیںپہنائے خیال کے دھندلکے

اب تیرہ و تار ہو گئے ہیںآنسو بھی نہیں کہ رو سکوں میں

یہ موت ہے زندگی نہیں ہےاب آئے کوئی مجھے اٹھا کر

اس اونچے پہاڑ سے پٹک دےہر سمت فضائیں چیخ اٹھیں

بادل بھی گرج گرج کے برسیںکوندوں کے کڑکتے تازیانے

لہرائیں گھنی سیاہ شب کےسینے میں کئی شگاف کر دیں

تاریکیاں پھر لپک کے اٹھیںآپس میں لپٹ لپٹ کے لرزیں

اور ٹوٹتے گرتے لاکھوں اشجارکہتے رہیں مجھ سے سنبھلو سنبھلو

میں سخت و سیاہ پتھروں سےٹکراتا ہوا لڑھکتا جاؤں

اس شور میں کوئی کہہ رہا ہویہ موت نہیں ہے زندگی ہے

— ضیاء جالندھری