نظم 11 اشعار

تابہ کے

Taba kai

لفظ اور ہونٹ کے مابین کہیںسانس الجھ جاتی ہے

تیرے آنگن کے کسی گوشۂ نادیدہ میںمنحنی ہاتھوں سے دیوار پکڑتی ہوئی

امید کی بیلاپنے ہی غم سے دہکتی رہی دم دم پیہم

اپنے ہی نم سے مہکتی رہی موسم موسملفظ ابھرتے رہے رک رک کے سر شاخ نیاز

بیل کے پھول کبھی رنگ کبھی خوشبو سےآن کی آن ترے لمس میں جینا چاہیں

مجس ذات کی تنہائی میںاور زمستان خموشی کی گرانباری میں

یہی ارمان رہاتو انہیں چاہے نہ چاہے لیکن

کبھی پل بھر کو پذیرائی کا اظہار کرےلمحہ بھر لذت شنوائی سے سرشار کرے

آج اس درد کی برسات کے دنبیل سے ایک مہک اٹھی ہے طوفاں کی طرح

پھول وا ہونٹوں کے مانند ہیں ہر برگ ہے اک دیدۂ گریاں کی طرحاور ہوا کانپ رہی ہے کسی ہم راز پریشاں کی طرح

کیا یہ بیتاب دھڑکتے ہوئے لفظآج بھی تیری مژہ پر نہ منور ہوں گے

— ضیاء جالندھری