نظم 7 اشعار

طلوع

Tulua

کسے یقیں تھا کہ پلٹے گی رات کی کایاکٹی تو رات مگر ایک ایک پل گن گن

افق پہ آئی بھی تھی سرخیٔ سحر لیکنسحر کے ساتھ ہی ابر سیاہ بھی آیا

سحر کے ساتھ ہی حد نگاہ تک چھایایہ کیا غضب ہے کہ اب تیرہ تر ہے رات سے دن

زمانہ شوخ شعاعو اداس ہے تم بنبس اک جھلک کہ اٹھے سر سے یہ گھنا سایا

یہ ڈر بھی ہے کہ شعاعیں نہ جگمگا اٹھیںکوئی شعاع جو اٹھی بھی لے کے انگڑائی

اور اٹھ کے عالم تاریک میں وہ در آئیتو آ کے دیکھے گی ہے نور و بے بصر آنکھیں

نہیں ہے جن کے لیے فرق نور و ظلمت میںکہ اب ہیں خواب عدم میں سحر کے سودائی

— ضیاء جالندھری