نظم 8 اشعار

ایک مجسمہ

Ek mujassama

لوح احکام ہوئی ایک ہی جھٹکے میں دو لختدیکھا جاتا نہ تھا پیغمبر سینا کا جلال

لب سفید آنکھیں تپاں رخ سے عیاں صدمۂ سختاور ان آنکھوں سے ابلتا ہوا اک قہر عظیم

شعلہ در شعلہ رواں سوئے بنی اسرائیلتم وہ بد بخت کہ ٹھکراتے ہو عرفاں کی سبیل

بے اثر تم پہ ہر اک معجزہ و حرف و دلیلمائیکل اینجلو وہ طیش و الم کا لمحہ

تیرے تیشے نے تراشا ہے کس انداز کے ساتھاس قدر درد پھر اس طنطنہ و ناز کے ہاتھ

تیری تخلیق کا یہ سحر ہے بے قید زماںاہل دل کے لیے زہراب ہے یہ آگاہی

کہ اس انسان کی گمراہی وہی ہے کہ جو تھیلاکھ سقراط اسے راستہ دکھلاتے رہیں

اس کی قسمت میں وہی تیرہ شبی ہے کہ جو تھیلاکھ موسیٰ یہاں خورشید بکف آتے رہیں

— ضیاء جالندھری