نظم 10 اشعار

راہرو

Rah-rau

سبک پا ہوا کی طرح میں گزرتا رہاسبک پا ہوا کی کہیں کوئی منزل نہیں

ہوا بیکراں وقت کی موج ازل سے ترستی رہیکہیں پل کو سستا سکے سو سکے

مگر دور حد نظر اک دھندلکا تھا اب بھی دھندلکا ہے ساحل نہیںمجھے زندگی اک خلش بن کے ڈستی رہی

کبھی ایسی منزل نہ آئی جہاں کوئی تازہ نفس ہو سکےہر اک دھندلی منزل سے پہلے نیا راستہ ہی ابھرتا رہا

کبھی جلتے پھولوں کی نوخیز خوشبوئیں دل میں دہکتی رہیںکبھی خشک جھلسی ہوئی ٹہنیاں ابر پاروں کو حسرت

سے تکتی رہیںوہ کچھ مجھ سے کہنے کو تھیں اور جھجکتی رہیں

کبھی سکھ کے سائے کبھی دکھ کے دریا مرا دل مچلتا رہاکہیں پھیلے میداں کہیں سخت اونچی چٹانوں کے

الجھے ہوئے سلسلےمگر میری منزل یہاں بھی نہیں تھی وہاں بھی نہیں

میں چلنے پہ مجبور چلتا رہامیں ہر بار کچھ بھول آیا ہوں پیچھے کہیں

یوں ہی جیسے خود رہ گیا ہوں کسی پھول کے پاسچلتے ہوئے

— ضیاء جالندھری