نظم 33 اشعار

چاک

Chaak

۱وہ ازل سے اپنے عظیم چاک پہ

ممکنات کے انکشاف میں محو ہےفلک و زمیں مہ و آفتاب و نجوم کہنہ کرشمے اس کے کمال کے

ابھی اس کی جدت بے پناہ کو طرح نو کی تلاش ہےابھی عرش و فرش کے ناشنیدہ شمائل اس کی نظر میں ہیں

ابھی ماورائے خیال و فکر مسائل اس کی نظر میں ہیںکرۂ زمیں کو یہ فخر ہے

کہ یہ خاک خالق خالقاں کو عزیز ہےیہیں سانس لیتی حیات جلوہ نما ہوئی

اسی ارض خاک کو ارمغان نمو ملایہاں زندگی کے وہ رنگ ہیں وہ طریق ہیں

کہ نہ ان کا کوئی شمار ہے نہ حساب ہےانہی پیکروں میں ہے جا بجا وہ طلسم عکس جمال بھی

جسے دیکھ لینے سے چشم و دل ہمہ حیرت و ہمہ بے خودیکہیں کونپلوں کو نکھارتا ہے وہ لذت نم شاخ سے

کہیں مو قلم سے سنوارتا ہے گلوں میں رنگ نئے نئےکبھی بخشا ہے دلوں کو درد کی جاں گداز لطافتیں

کوئی رنگ ہو کوئی روپ ہوکوئی شکل کوئی مزاج ہو

سبھی اس کے چاک سے آئے ہیں۲

یہ ساری باتیں سچ ہی سہییہ سارے گمان درست سہی

پر یہ تو کہوقدموں تلے روندے پتوں کی آواز سنی ہے تم نے کبھی

مرجھائے ہوئے پھولوں سے کبھی بیتی ہوئی رت کی بات ہوئیکبھی خوف زدہ نخچیروں کی آنکھوں میں جھانک کے دیکھا ہے

کبھی دکھتے دلوں کی اس دھڑکن اس دہشت میں بھی شریک ہوئےجو ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے احساس سے پیدا ہوتی ہے

پھٹی پرانی شکلوں والےیہ اپاہج یہ معذور ضعیف

یہ ٹوٹے پھوٹے کھلونے بھیاسی چاک سے آئے ہیں کہ نہیں

کل جن کی حیات تھی برق آساپیوند خس و خاشاک ہوئے

جنہیں دیکھ کے آنکھیں روشن تھیںپنہاں پس پردۂ خاک ہوئے

وہ نقش گر کامل ہے تو پھرجو نقش جمیل بناتا ہے

جو درد دلوں میں جگاتا ہےاسے غارت کیوں کر دیتا ہے

فن کار ازل کو کیا اپنے کسی نقش پہ اطمینان نہیں۳

آدمی زادے کسی رنگ کسی نقش کا پابند نہ ہوزیست ٹھہرا ہوا جوہڑ نہیں مواج و رواں دریا ہے

تو ہے اک ٹھہرے ہوئے پل میں طلب گار دوامیہ دوام اصل میں ہے بے حسیٔ مرگ کا نام

آدمی زادے ترے رشتے ہیں بادل کی طرحگھر کے آتے ہیں برستے ہیں گزر جاتے ہیں

یوں بھی ہوتا ہے کہ کچھ دیر ٹھہر جاتے ہیںیوں بھی ہوتا ہے کہ بن برسے بکھر جاتے ہیں

تو کسی رشتے کسی ابر کا پابند نہ ہوتو کہ ہے ٹوٹے کھلونے کے لیے گریہ کناں

دیکھ یہ خاک کے پیکر تو فقط شکل بدل لیتے ہیںانہی ٹوٹے ہوئے بے کار کھلونوں کی یہ مٹی پھر سے

زیست کے چلتے ہوئے چاک کے کام آتی ہےپھر نئے روپ میں ڈھل جاتی ہے

جانے والوں کے لیےمٹتے رنگوں کے لیے ٹوٹے کھلونوں کے لیے

تیرا ہر نوحہ بجا ہے لیکنآنے والوں کا بناؤ بھی تو دیکھ

تازہ کونپل کی نزاکت میں تناؤ بھی تو دیکھکہ وہ فن کار ازل

آج بھی اپنے اسی چاک پہ ہے

— ضیاء جالندھری