سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا
کلام: آزاد گلاٹی
سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھاروح پر اپنی خلاؤں کا سفر لکھا تھا
ہم بھٹکتے رہے صدیوں جسے پڑھنے کے لئےاپنے اندر وہ کہیں حرف ہنر لکھا تھا
آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی
مہمان شاعر: آزاد گلاٹی
سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھاروح پر اپنی خلاؤں کا سفر لکھا تھا
ہم بھٹکتے رہے صدیوں جسے پڑھنے کے لئےاپنے اندر وہ کہیں حرف ہنر لکھا تھا
ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گاایک دن میں بھی زمیں پر آسماں ہو جاؤں گا
ریزہ ریزہ ڈھلتا جاتا ہوں میں حرف و صوت میںرفتہ رفتہ اک نہ اک دن میں بیاں ہو جاؤں گا