تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں
کلام: آزاد گلاٹی
تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوںمیں بھی تیرا بھولا ہوا اک رستا ہوں
بیتے لمحوں کے جھونکے جب آتے ہیںپل دو پل کو میں پھر سے کھل اٹھتا ہوں
آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی
مہمان شاعر: آزاد گلاٹی
تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوںمیں بھی تیرا بھولا ہوا اک رستا ہوں
بیتے لمحوں کے جھونکے جب آتے ہیںپل دو پل کو میں پھر سے کھل اٹھتا ہوں