8 اشعار

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے

Aane wale hadson ke khauf se sehame hue

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے

«آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئےلوگ پھرتے ہیں کہ جیسے خواب ہوں ٹوٹے ہوئے

صبح دیکھا تو نہ تھا کچھ پاس الجھن کے سوارات ہم بیٹھے رہے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے

اپنے دکھ میں ڈوب کر وسعت ملی کیسی ہمیںہیں زمیں سے آسماں تک ہم ہی ہم پھیلے ہوئے

آج آئینے میں خود کو دیکھ کر یاد آ گیاایک مدت ہو گئی جس شخص کو دیکھے ہوئے

جسم کی دیوار گر جائے تو کچھ احساس ہواپنے اندر ہم پڑے ہیں کس قدر سمٹے ہوئے

کس سے پوچھیں رات بھر اپنے بھٹکنے کا سببسب یہاں ملتے ہیں جیسے نیند میں جاگے ہوئے

اس نگر کے جگمگاتے راستوں پر گھوم کرہم چلے آئے غموں کی دھول میں لپٹے ہوئے

جن کو اے آزادؔ بخشی تھی مہک ہم نے کبھیاب وہی رستے ہمارے واسطے کانٹے ہوئے

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں