خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں
کلام: آزاد گلاٹی
خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میںخود اپنے عہد گزشتہ کی اک صدا ہوں میں
سمیٹ لاتا ہوں موتی تمہاری یادوں کےجو خلوتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوں میں
آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی
مہمان شاعر: آزاد گلاٹی
خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میںخود اپنے عہد گزشتہ کی اک صدا ہوں میں
سمیٹ لاتا ہوں موتی تمہاری یادوں کےجو خلوتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوں میں