بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی
کلام: آزاد گلاٹی
بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنیہمارے ساتھ ہیں اب تک روایتیں اپنی
ہمیں حیات کا ہر لمحہ تب بھی دوزخ تھاہمارے پاؤں تلے جب تھیں جنتیں اپنی
آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی
مہمان شاعر: آزاد گلاٹی
بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنیہمارے ساتھ ہیں اب تک روایتیں اپنی
ہمیں حیات کا ہر لمحہ تب بھی دوزخ تھاہمارے پاؤں تلے جب تھیں جنتیں اپنی
ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میںکوئی تو مجھ سے بڑا ہے مجھ میں
انکساری مرا شیوہ ہے مگراک ذرا زعم انا ہے مجھ میں