8 اشعار

تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں

Tere qadmon ki aahat ko tarsa hoon

تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں

«تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوںمیں بھی تیرا بھولا ہوا اک رستا ہوں

بیتے لمحوں کے جھونکے جب آتے ہیںپل دو پل کو میں پھر سے کھل اٹھتا ہوں

مجھ سے مژدہ نئی رتوں کا پاؤ گےیارو میں اس پیڑ کا انتم پتا ہوں

شاید تم بھی اب نہ مجھے پہچان سکواب میں خود کو اپنے جیسا لگتا ہوں

آج کے کالے سائے کل تک پھیلیں گےمیرے بچو میں اس بات سے ڈرتا ہوں

تم بھی کیسے ڈھونڈ سکو گے اب مجھ کومیں خود اپنے آپ سے اوجھل رہتا ہوں

سایوں کی خواہش نے مجھے جلایا ہےاب میں ان کے نام سے تپنے لگتا ہوں

مجھ سے مل کر کس کو یقین اب آئے گامیں بھی تیرا ٹوٹا ہوا اک رشتہ ہوں

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں