8 اشعار

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں

Main bichhad kar tujh se teri rooh ke paikar mein hoon

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں

«میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوںتو مری تصویر ہے میں تیرے پس منظر میں ہوں

اپنا مرکز ڈھونڈتا ہوں دائروں میں کھو کے میںکتنے جنموں سے میں اک محدود سے چکر میں ہوں

خود ہی دستک دے رہا ہوں اپنے در پر دیر سےگھر سے باہر رہ کے بھی جیسے میں اپنے گھر میں ہوں

میں وہ آذر ہوں جسے برسوں رہی اپنی تلاشخود ہی مورت بن کے پوشیدہ ہر اک پتھر میں ہوں

دیکھنے والے مجھے میری نظر سے دیکھ لےمیں تری نظروں میں ہوں اور میں ہی ہر منظر میں ہوں

گونجتا ہوں اپنے اندر اور کھو جاتا ہوں میںاک صدا بن کر انا کے گنبد بے در میں ہوں

میں کبھی اک جھیل تھا پھیلے ہوئے صحراؤں میںآج میں اک پیاس کا صحرا ہوں اور ساگر میں ہوں

موت کو آزادؔ یہ عرفان دینا ہے مجھےکاٹتی ہے مجھ کو جس سے وہ میں اس خنجر میں ہوں

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں