غزل 7 اشعار

شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کرو

Sharab aae to kaif-o-asar ki baat karo

شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کروپیو تو بزم میں فکر و نظر کی بات کرو

فسانۂ خم گیسو میں کیف کچھ بھی نہیںنظام عالم زیر و زبر کی بات کرو

چمن میں دام بچھاتا ہے وقت کا صیادگلوں سے حوصلۂ بال و پر کی بات کرو

قبائے زہد کی پاکیزگی تو دیکھ چکےشراب خانے میں دامان تر کی بات کرو

کہانیاں شب ہجراں کی ہو چکی ہیں تمامسحر طلوع ہوئی ہے سحر کی بات کرو

چمن چمن میں ادھر ہو رہی ہے حد بندیکھلی فضائیں جدھر ہیں ادھر کی بات کرو

گلوں کا ذکر بہاروں میں کر چکے اخترؔاب آؤ ہوش میں برق و شرر کی بات کرو

— اختر انصاری اکبر آبادی