میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!
کلام: اختر شیرانی
میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو!
آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھولشاداب ہو رہا ہے گلستان آرزو!
بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی
مہمان شاعر: اختر شیرانی
میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو!
آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھولشاداب ہو رہا ہے گلستان آرزو!
سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہےمجھے یاد آنے والے تو کہاں ہے
خدائی کہکشاں کہتی ہے جس کووہ عذرا کا خرام رائیگاں ہے