کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
کلام: اختر شیرانی
کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں
مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثرجائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں
بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی
مہمان شاعر: اختر شیرانی
کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں
مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثرجائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں
دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گاتمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گا
اگر مجھے نہ ملیں تم تمہارے سر کی قسممیں اپنی ساری جوانی تباہ کر لوں گا