8 اشعار

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!

Main arzoo-e-jaan likhun ya jaan-e-arzoo!

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!

«میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو!

آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھولشاداب ہو رہا ہے گلستان آرزو!

ایمان و جاں نثار تری اک نگاہ پرتو جان آرزو ہے تو ایمان آرزو!

ہونے کو ہے طلوع صباح شب وصالبجھنے کو ہے چراغ شبستان آرزو!

اک وہ کہ آرزؤں پہ جیتے ہیں عمر بھراک ہم کہ ہیں ابھی سے پشیمان آرزو!

آنکھوں سے جوئے خوں ہے رواں دل ہے داغ داغدیکھے کوئی بہار گلستان آرزو!

دل میں نشاط رفتہ کی دھندلی سی یاد ہےیا شمع وصل ہے تہ دامان آرزو!

اخترؔ کو زندگی کا بھروسہ نہیں رہاجب سے لٹا چکے سر و سامان آرزو!

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں