یہ دنیا کتنی پیاری ہے
کلام: اختر شیرانی
یہ دنیا کتنی پیاری ہےہر اک بات اس کی نیاری ہے
یہ دنیا کتنی پیاری ہےمکاں آباد ہیں کیسے
بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی
مہمان شاعر: اختر شیرانی
یہ دنیا کتنی پیاری ہےہر اک بات اس کی نیاری ہے
یہ دنیا کتنی پیاری ہےمکاں آباد ہیں کیسے
وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیںمحبت کریں خوش رہیں مسکرا دیں
غرور اور ہمارا غرور محبتمہ و مہر کو ان کے در پر جھکا دیں