آنسو
کلام: اختر شیرانی
میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسوبن گئے شام محبت کے ستارے آنسو
دیکھ سکتا ہے بھلا کون یہ پارے آنسومیری آنکھوں میں نہ آ جائیں تمہارے آنسو
بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی
مہمان شاعر: اختر شیرانی
میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسوبن گئے شام محبت کے ستارے آنسو
دیکھ سکتا ہے بھلا کون یہ پارے آنسومیری آنکھوں میں نہ آ جائیں تمہارے آنسو
چھپاؤں کیوں نہ دل میں خاتم گوہر نگار اس کییہی لے دے کے میرے پاس ہے اک یادگار اس کی
یہ تنہائی میں میرے لب تک آ کر مسکراتی ہےاور اپنی مالکہ کی طرح دل کو گدگداتی ہے