14 اشعار

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

Woh kehte hain ranjish ki baatein bhula dein

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

«وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیںمحبت کریں خوش رہیں مسکرا دیں

غرور اور ہمارا غرور محبتمہ و مہر کو ان کے در پر جھکا دیں

جوانی ہو گر جاودانی تو یا ربتری سادہ دنیا کو جنت بنا دیں

شب وصل کی بے خودی چھا رہی ہےکہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں

بہاریں سمٹ آئیں کھل جائیں کلیاںجو ہم تم چمن میں کبھی مسکرا دیں

عبادت ہے اک بے خودی سے عبارتحرم کو مے مشک بو سے بسا دیں

وہ آئیں گے آج اے بہار محبتستاروں کے بستر پہ کلیاں بچھا دیں

بناتا ہے منہ تلخی مے سے زاہدتجھے باغ رضواں سے کوثر منگا دیں

جنہیں عمر بھر یاد آنا سکھایاوہ دل سے تری یاد کیونکر بھلا دیں

تم افسانۂ قیس کیا پوچھتے ہوادھر آؤ ہم تم کو لیلیٰ بنا دیں

یہ بے دردیاں کب تک اے درد غربتبتوں کو پھر ارض حرم میں بسا دیں

وہ سرمستیاں بخش اے رشک شیریںکہ خسرو کو خواب عدم سے جگا دیں

ترے وصل کی بے خودی کہہ رہی ہےخدائی تو کیا ہم خدا کو بھلا دیں

انہیں اپنی صورت پہ یوں ناز کب تھامرے عشق رسوا کو اخترؔ دعا دیں

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں