10 اشعار

دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا

Dil-o-Dimagh Ko Ro Loon Ga Aah Kar Loon Ga

دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا

«دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گاتمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گا

اگر مجھے نہ ملیں تم تمہارے سر کی قسممیں اپنی ساری جوانی تباہ کر لوں گا

مجھے جو دیر و حرم میں کہیں جگہ نہ ملیترے خیال ہی کو سجدہ گاہ کر لوں گا

جو تم سے کر دیا محروم آسماں نے مجھےمیں اپنی زندگی صرف گناہ کر لوں گا

رقیب سے بھی ملوں گا تمہارے حکم پہ میںجو اب تلک نہ کیا تھا اب آہ کر لوں گا

تمہاری یاد میں میں کاٹ دوں گا حشر سے دنتمہارے ہجر میں راتیں سیاہ کر لوں گا

ثواب کے لیے ہو جو گنہ وہ عین ثوابخدا کے نام پہ بھی اک گناہ کر لوں گا

حریم حضرت سلمیٰ کی سمت جاتا ہوںہوا نہ ضبط تو چپکے سے آہ کر لوں گا

یہ نو بہار یہ ابرو، ہوا یہ رنگ شرابچلو جو ہو سو ہو اب تو گناہ کر لوں گا

کسی حسینہ کے معصوم عشق میں اخترؔجوانی کیا ہے میں سب کچھ تباہ کر لوں گا

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں