9 اشعار

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

Kaam aa sakein na apni wafayein to kya karein

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

«کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں

مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثرجائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں

اک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہمنازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں

ظلمت بدوش ہے مری دنیائے عاشقیتاروں کی مشعلے نہ چرائیں تو کیا کریں

شب بھر تو ان کی یاد میں تارے گنا کئےتارے سے دن کو بھی نظر آئیں تو کیا کریں

عہد طرب کی یاد میں رویا کئے بہتاب مسکرا کے بھول نہ جائیں تو کیا کریں

اب جی میں ہے کہ ان کو بھلا کر ہی دیکھ لیںوہ بار بار یاد جو آئیں تو کیا کریں

وعدے کے اعتبار میں تسکین دل تو ہےاب پھر وہی فریب نہ کھائیں تو کیا کریں

ترک وفا بھی جرم محبت سہی مگرملنے لگیں وفا کی سزائیں تو کیا کریں

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں