7 اشعار

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں

Hamare haath mein kab saghar-e-sharab nahin

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں

«ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیںہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں

جہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیںوہ مے کدے نہیں ساقی نہیں شراب نہیں

شب بہار میں زلفوں سے کھیلنے والےترے بغیر مجھے آرزوئے خواب نہیں

چمن میں بلبلیں اور انجمن میں پروانےجہاں میں کون غم عشق سے خراب نہیں

غم آہ عشق کے غم کا کوئی نہیں موسمبہار ہو کہ خزاں کب یہ اضطراب نہیں

امید پرسش احوال ہو تو کیوں کر ہوسلام کا بھی تری بزم میں جواب نہیں

وطن کا چھیڑ دیا کس نے تذکرہ اخترؔکہ چشم شوق کو پھر آرزوئے خواب نہیں

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں