9 اشعار

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے

Agar woh apne haseen chehre ko bhool kar be-naqaab kar de

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے

«اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دےتو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے

تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہےجو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے

حریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سےمری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر دے

مزے وہ پائے ہیں آرزو میں کہ دل کی یہ آرزو ہے یا ربتمام دنیا کی آرزوئیں مرے لیے انتخاب کر دے

نظر نا آنے پہ ہے یہ حالت کہ جنگ ہے شیخ و برہمن میںخبر نہیں کیا سے کیا ہو دنیا جو خود کو وہ بے نقاب کر دے

مرے گناہوں کی شورشیں اس لیے زیادہ رہی ہیں یا ربکہ ان کی گستاخیوں سے تو اپنے عفو کو بے حساب کر دے

خدا نہ لائے وہ دن کہ تیری سنہری نیندوں میں فرق آئےمجھے تو یوں اپنے ہجر میں عمر بھر کو بیزار خواب کر دے

میں جان و دل سے تصور حسن دوست کی مستیوں کے قرباںجو اک نظر میں کسی کے بے کیف آنسوؤں کو شراب کر دے

عروس فطرت کا ایک کھویا ہوا تبسم ہے جس کو اخترؔکہیں وہ چاہے شراب کر دے کہیں وہ چاہے شباب کر دے

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں