ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
7 نومبر 2026
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر
مہمان شاعر: نصیر احمد ناصر
8
سپیکرز
290
سامعین
سپیکرز
نصیر احمد ناصر — مہمان شاعر
نصیر احمد ناصرؔ اردو کے معاصر شعرا میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ یکم اپریل ۱۹۵۴ء کو گجرات، پنجاب میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کھاریاں میں حاصل کی۔ ان کا شمار جدید اردو نظم کے اہم تخلیق کاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نظم، غزل اور ہائیکو کے میدان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا، تاہم ان کی بنیادی ادبی شناخت نظم نگاری اور ہائیکو سے وابستہ ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی وجود، تنہائی، خواب، یاد، وقت، فطرت اور زندگی کے پیچیدہ تجربات کو علامتی اور استعاراتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
نصیر احمد ناصرؔ کی شعری تصانیف میں ’’زرد پتوں کی شال‘‘، ’’پانی میں گم خواب‘‘، ’’تیسرے قدم کا خمیازہ‘‘، ’’ملبے سے ملی چیزیں‘‘، ’’سرمئی نیند کی بازگشت‘‘ اور ’’عرابچی سو گیا ہے‘‘ شامل ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’زرد پتوں کی شال‘‘ ۱۹۹۳ء میں شائع ہوا، جس میں ان کی ہائیکو نگاری کے نمونے شامل ہیں اور جس کا پیش لفظ ڈاکٹر وزیر آغا نے تحریر کیا۔ ان کی شاعری میں اختصار کے اندر معنویت پیدا کرنے، روزمرہ مناظر کو گہرے انس...
نصیر احمد ناصرؔ کی شعری تصانیف میں ’’زرد پتوں کی شال‘‘، ’’پانی میں گم خواب‘‘، ’’تیسرے قدم کا خمیازہ‘‘، ’’ملبے سے ملی چیزیں‘‘، ’’سرمئی نیند کی بازگشت‘‘ اور ’’عرابچی سو گیا ہے‘‘ شامل ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’زرد پتوں کی شال‘‘ ۱۹۹۳ء میں شائع ہوا، جس میں ان کی ہائیکو نگاری کے نمونے شامل ہیں اور جس کا پیش لفظ ڈاکٹر وزیر آغا نے تحریر کیا۔ ان کی شاعری میں اختصار کے اندر معنویت پیدا کرنے، روزمرہ مناظر کو گہرے انس...