ستارہ شام سے نکلا ہوا ہے
کلام: نصیر احمد ناصر
ستارہ شام سے نکلا ہوا ہےدیا بھی طاق میں رکھا ہوا ہے
کہیں وہ رات بھی مہکی ہوئی ہےکہیں وہ چاند بھی چمکا ہوا ہے
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر
مہمان شاعر: نصیر احمد ناصر
ستارہ شام سے نکلا ہوا ہےدیا بھی طاق میں رکھا ہوا ہے
کہیں وہ رات بھی مہکی ہوئی ہےکہیں وہ چاند بھی چمکا ہوا ہے
عکس ٹوٹا ہے بارہا میراسنگ خارا ہے آئنہ میرا
ساری دنیا مری مخالف ہےایک بچہ ہے ہم نوا میرا