میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو
کلام: نصیر احمد ناصر
میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جوہے کون سا وہ پھول کہ باغوں میں نہیں جو
ہوتی ہے کسی دیدۂ نمناک کی لو سےوہ روشنی کیسی ہے چراغوں میں نہیں جو
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر
مہمان شاعر: نصیر احمد ناصر
میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جوہے کون سا وہ پھول کہ باغوں میں نہیں جو
ہوتی ہے کسی دیدۂ نمناک کی لو سےوہ روشنی کیسی ہے چراغوں میں نہیں جو
چھاؤں پیتی ہے دھوپ کھاتی ہےشب سدا کی چڑیل جاتی ہے
اک ستارے پہ آن بیٹھے ہیںہاتھ میں چاند کی چپاتی ہے