ریگ ہستی کا استعارہ بن
کلام: نصیر احمد ناصر
ریگ ہستی کا استعارہ بناے سمندر کبھی کنارہ بن
یوم وارفتگی منا اک دنرقص کرتے ہوئے شرارہ بن
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر
مہمان شاعر: نصیر احمد ناصر
ریگ ہستی کا استعارہ بناے سمندر کبھی کنارہ بن
یوم وارفتگی منا اک دنرقص کرتے ہوئے شرارہ بن