شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے
کلام: نصیر احمد ناصر
شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھےدرد تنہائیوں میں چیخ اٹھے
تہ بہ تہ منجمد تھکن جاگیجسم انگڑائیوں میں چیخ اٹھے
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر
مہمان شاعر: نصیر احمد ناصر
شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھےدرد تنہائیوں میں چیخ اٹھے
تہ بہ تہ منجمد تھکن جاگیجسم انگڑائیوں میں چیخ اٹھے
چھجے ہیں سائبان ہیں آگے بڑھے ہوئےگلیوں کے سب مکان ہیں آگے بڑھے ہوئے
پس ماندگی عوام کے پیچھے پڑی ہوئیدو چار خاندان ہیں آگے بڑھے ہوئے