جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی
کلام: مبارک عظیم آبادی
جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کیبلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کی
ابھر آئی ہیں پھر چوٹیں جگر کیسلامت برچھیاں ترچھی نظر کی
دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی
مہمان شاعر: مبارک عظیم آبادی
جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کیبلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کی
ابھر آئی ہیں پھر چوٹیں جگر کیسلامت برچھیاں ترچھی نظر کی