تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے
کلام: مبارک عظیم آبادی
تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہےگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہے
یہ کس کی نظر دے گئی روگ یاربسنبھالے سے اب دل سنبھلتا نہیں ہے
دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی
مہمان شاعر: مبارک عظیم آبادی
تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہےگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہے
یہ کس کی نظر دے گئی روگ یاربسنبھالے سے اب دل سنبھلتا نہیں ہے