7 اشعار

جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی

Jabeen par khaak hai yeh kis ke dar ki

جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کیبلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کی

ابھر آئی ہیں پھر چوٹیں جگر کیسلامت برچھیاں ترچھی نظر کی

قیامت کی حقیقت جانتا ہوںیہ اک ٹھوکر ہے میرے فتنہ گر کی

کیا مجبور آئین وفا نےنہ کرنی تھی وفا تم سے مگر کی

نہ مانو گے نہ مانو گے ہماریادھر ہو جائے گی دنیا ادھر کی

ہوئی ان بن کسی سے مجھ پہ برسےبلائیں میرے سر دشمن کے سر کی

نہ تیرے حسن بے پروا کی غایتنہ کوئی حد مرے ذوق نظر کی

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں