پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے
کلام: مبارک عظیم آبادی
پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلےصاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلے
دورئ منزل مقصد کوئی ہم سے پوچھےبیٹھے سو بار ہم اس راہ میں سو بار چلے
دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی
مہمان شاعر: مبارک عظیم آبادی
پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلےصاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلے
دورئ منزل مقصد کوئی ہم سے پوچھےبیٹھے سو بار ہم اس راہ میں سو بار چلے